Headlines News :

Latest Post

Showing posts with label Urdu News. Show all posts
Showing posts with label Urdu News. Show all posts

اختیارات پاس رکھنے کا ارادہ نہیں: مرسی

Written By Unknown on Sunday, November 25, 2012 | 11:58 PM

قاہرہ میں موجود مظاہرین
مصر میں صدر مرسی کی حکومت کے خلاف مہم کا آغاز ان کے ایک حکم نامے کے بعد شروع ہوا
مصر کے صدر محمد مرسی خود کو وسیع اختیارات دینے والے فرمان کے بعد سے شروع ہونے والے بحران کے حل کے لیے پیر کو اعلیٰ عدلیہ سے ملیں گے۔
محمد مرسی نے یہ بھی کہا ہے کہ خود کو وسیع اختیارات دینے والا فرمان عارضی ہے اور ان کا اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے کا ارادہ نہیں ہے۔
صدر مرسی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ پیر کو سینئیر ججوں سے ملاقات کریں گے اور وہ دیگر تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر قائم ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فرمان جاری کرنے کا مقصد جمہوری طریقے سے منتخب اداروں کو نقصان پہنچے سے روکنا تھا۔
دریں اثنا مصر میں صدارتی فرمان پر صدر مرسی کے خلاف جاری احتجاج میں اتوار کو پہلی ہلاکت ہوئی ہے۔
منگل کو تحریر سکوائر پر ایک بڑے احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔
اسی دوران خود کو وسیع اختیارات دینے والے فرمان کے خلاف قاہرہ میں احتجاج جاری ہے اور اسی دوران ملک کے حصص بازار میں دس فی صد گراوٹ درج کی گئی۔
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں صدر کے اختیارات میں اضافے کے فیصلے کے بعد مظاہرے جاری ہیں جب کہ اخوان المسلمین نے ان کی حمایت میں جلوس نکالنے کا منصوبہ بنايا ہے۔
صدر کے اعلان کے بعد جب حِصص کی قیمتوں میں گراوٹ شروع ہوئی تو تیس منٹ تک خرید و فروخت کو معطل کر دیا گیا۔ لیکن جب دوبارہ خرید و فروخت کا معاملہ شروع ہوا اس کے بعد بھی حصص کی قیمتوں میں گراوٹ جاری رہی۔
سیکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان اتوار کی صبح قاہرہ میں ایک بار پھر جھڑپیں شروع ہوئی ہیں۔ تحریر چوک میں آنسو گیس کے گولوں کے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں۔
مصر کی خبر رساں ایجنسی مینا کے مطابق قاہرہ میں امریکی سفارت خانے کے پاس پتھر پھینکے گئے ہیں لیکن چونکہ وہاں کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کی جا چکی ہیں اس لیے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔
خبروں میں بتایا گیا ہے کہ مصر کے اہم مقامات اور سرکاری دفاتر کے ارد گر پولیس کی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔
اس سے قبل مصر میں بیس سے زائد انسانی حقوق کی تنظیموں نے صدر محمد مرسی کے نام ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو وسیع اختیارات دینے والا فرمان واپس لیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے محمد مرسی کے نام لکھے جانے والے اس ’ کھلے خط‘ پر دستخط کیے ہیں اور کہا ہے کہ صدر مُرسی نے اپنے آپ کو جو وسیع اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے وہ ’مصر کی آزادی پر غیر معمولی حملہ ہے۔‘
محمد مرسیوہیں حزبِ اختلاف کے رہنما محمد البرادعی نے کہا ہے کہ صدر مرسی کے ساتھ تب تک کوئی بات نہیں ہوسکتی ہے جب تک ان کا تازہ فیصلہ واپس نہیں لیا جاتا۔
وہیں مقامی میڈیا نے خبر دی ہے کہ اخوان المسلمین نے بھی صدر کی حمایت میں پورے مصر میں مارچ کا اعلان کیا ہے۔
صدر مرسی کا کہنا ہے کہ وہ مصر کو ’آزادی اور جمہوریت‘ کی راہ پر لے جا رہے ہیں
مصر کی خبر رساں ایجنسی مینا کے مطابق صدر مرسی کی جماعت فریڈیم اینڈ جسٹس پارٹی کی حمایت کرنے والی اسلام پسند جماعت نے اعلان کیا ہے کہ وہ عابدین سکوئر پر دس لاکھ لوگوں کا مارچ کرے گی۔
واضح رہے کہ منگل کے روز صدر مرسی کے اس اعلان کے بعد کہ اب کوئی بھی صدر کے بنائے ہوئے قوانین، کیے گئے فیصلوں اور جاری کیے گئے فرامین کو چیلنج نہیں کر سکے گا، مصر میں عوام، عدلیہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے زبردست احتجاج جاری ہے۔
صدر مرسی کے فرمان کا مطلب ہے کہ صدارتی اقدامات عدالتی یا دیگر کسی بھی ادارے کی جانب سے نظرِ ثانی سے مبرا ہوں گے۔
قاہرہ انسٹی ٹیوٹ فار ہیومن رائٹس کی ویب سائٹ پر وہ خط شائع کیا گیا ہے جو انسانی حقوق کی تنظیموں نے صدر کے نام لکھا ہے۔ اس میں لکھا گیا ہے ’صدر کا یہ حکم ملک کے قانون اور انصاف کو پامال کرتا ہے اور ایک مخصوص سیاسی گروپ کے مفاد کے تحفظ کے لیے صدارتی اختیارات کا غلط استعمال کرتا ہے۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل سنیچر کو مصر میں ججوں نے صدر مرسی کی جانب سے اختیارت حاصل کرنے کے صدراتی حکم کو تنقید کا نشانے بناتے ہوئے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

مشرقِ وسطی: ’امریکہ فیصلہ کن رہنمائی کرے‘

ولیم ہیگ


’غزہ کے بحران سے کچھ بہتر نتائیج نکل سکتے تھے‘
برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مسئلے کو حل کرنے کے لیے امریکہ ’موثر رہنمائی‘ کرے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے مسئلے کے حل کے لیے بھرپور کوشش کا وقت آ گیا ہے۔
بی بی سی کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے ولیم ہیگ نے کہا کہ امریکہ کے اسرائیل کے ساتھ خصوصی تعلقات ہیں جو کسی اور ملک کے نہیں اور اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے امریکہ کو اب انتخاب کے بعد اس مسئلے پر رہنمائی کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلے کے حل میں یقیناً یورپی یونین اور عرب ممالک کا بھی کردار ہے اور ان کی کوشش بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے شاید دو ریاستی فارمولے پر عمل کا اب آخری موقع ہے۔
ولیم ہیگ کا کہنا ہے کہ ہم کہہ سکیں گے کہ غزہ کے تکلیف دہ بحران کے بعد ’کچھ بہتری‘ ہوئی ہے اگر غزہ آنے اور جانے کا راستہ کھولنا ممکن ہوجائے اور علاقے میں اسلحہ کی سمگلنگ رک جائے۔
دریں اثناء فلسطینی صدر محمود عباس اقوامِ متحدہ سے فلسطین کو بغیر رکنیت کے مبصر کا درجہ دینے کی حمایت کا مطالبہ کرنے والے ہیں۔
اسرائیل فلسطین کو یہ درجہ دیے جانے کے خلاف ہے اس کا کہنا ہے کہ یہ 1993 کے اوسلو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
محمود عباس پیر کو اقوامِ متحدہ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی رکنیت حاصل کرنے کی فلسطینی رہنما کی کوشش گزشتہ سال اس وقت ناکام ہو گئی تھی جب امریکہ نے اس کی درخواست کو ویٹو کر دیا تھا۔
اب نئی درخواست کے لیے سلامتی کونسل کی منظوری کی ضرورت ہوگی۔
مسٹر عباس پر مغربی ممالک اور خاص طور پر امریکہ نے دباؤ ڈالا تھا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی رکنیت کی درخواست واپس لے لیں۔
تاہم فلسطینی رہنما کا کہنا ہے کہ انہیں پورا یقین ہے کہ انہیں اس سلسلے میں بین الاقوامی حمایت حاصل ہوگی۔
مبصر کا درجہ ملنے سے فلسطین کو اہم اداروں تک رسائی حاصل ہو جائے گی جن میں ہیگ میں جرائم سے متعلق بین الاقوامی عدالت بھی شامل ہے۔
گزشتہ ہفتے ہی حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی طے پائی ہے۔
اسرائیل اور غزہ میں حماس کے درمیان آٹھ روز تک جاری رہنے والی لڑائی میں 158 فلسطینی اور چھ اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔

بال ٹھاکرے کی آخری رسومات کی تیاریاں

Written By Unknown on Sunday, November 18, 2012 | 2:34 AM


بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر کی سخت گیر قوم پرست ہندو جماعت شیوسینا کے بانی بال ٹھاکرے کی آخری رسومات آج شام ممبئی میں ادا کی جائیں گی۔اس سے پہلے لوگوں کے آخری دیدار ممبئی کے شیواجی پارک میں کیا جا سکے۔
کلِک بال ٹھاکرے کی یاد میں، تصاویرکلِک بال ٹھاکرے چل بسےلوگ بڑی تعداد میں پونے، ناسک، تھانے اور مہاراشٹر کے دیگر علاقوں سے ممبئی پہنچ رہے ہیں. عام لوگ صبح دس بجے سے شام پانچ بجے تک بال ٹھاکرے کا آخری درشن کر سکیں گے۔انتظامیہ نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ تقریباً 48،000 پولیس اہلکار ممبئی تعینات کیے گئے ہیں۔انتظامیہ نے ممبئی میں ركشا اور ٹیکسی پر پابندی عائد کر دی ہے تاہم ممبئی ٹرانسپورٹ محکمہ نے اضافی بسیں چلائی ہیں۔یاد رہے کہ بال ٹھاکرے ہفتے کو ممبئی میں انتقال کر گئے تھے۔ چھیاسی سالہ بال ٹھاکرے گزشتہ کئی دن سے شدید علیل تھے اور وہ اپنی رہائش گاہ ’ماتو شری‘پر ہی زیرِ علاج تھے۔ڈاکٹروں کی ایک ٹیم مستقل ان کی صحت کی نگرانی کر رہی تھی اور درمیان میں ان کی حالت میں بہتری کی خبر بھی آئی تھی تاہم سنیچر کی سہ پہر ان کی حالت بگڑی اور وہ چل بسے۔بال ٹھاکرے کی طبیعت مزید بگڑنے کی خبر کے بعد ان کے بھتیجے راج ٹھاکرے اور دیگر سیاسی رہنما ماتوشري پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔شیو سینا کے سربراہ کے انتقال کا اعلان ان کے معالج ڈاکٹر جلیل پارکر نے کیا اور ان کا کہنا تھا کہ بال ٹھاکرے کی موت حرکتِ قلب بند ہونے سے ہوئی۔ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی بال ٹھاکرے کی رہائش گاہ کے باہر دو دن سے موجود شیو سینکوں کی بھیڑ میں اضافہ ہو گیا ہے۔مہاراشٹر کی حکومت نے حالات سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور ان کی رہائش گاہ کے آس پاس بھاری تعداد میں پولیس کو تعینات کیا گيا ہے۔1926 میں پیدا ہونے والے بال ٹھاکرے نے کیریئر کا آغاز ایک پیشہ ور کارٹونسٹ کے طور پر کیا لیکن بعد میں وہ سیاست کے میدان میں داخل ہوگئے تھے۔انہوں نے مراٹھی بولنے والے مقامی لوگوں کو ملازمتوں میں ترجیح دیے جانے کے مطالبے کے ساتھ تحریک شروع کی۔ انیس سو اسّی کی دہائی کے دوران شیوسینا ایک بڑی سیاسی قوت بن گئی تھی۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بال ٹھاکرے نے کبھی نہ تو کوئی انتخاب لڑا اور نہ ہی کوئی سیاسی عہدہ قبول کیا لیکن وہ مہاراشٹر کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔وہ اپنے پاکستان مخالف جذبات کے لیے بھی جانے جاتے تھے اور حال ہی میں انہوں نے آئندہ ماہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دورۂ بھارت کی شدید مخالفت کی تھی اور ہندوؤں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس دورے کو ناکام بنائیں۔بال ٹھاکرے نے اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹے اودھو ٹھاکرے کو اپنا جانشین بنا دیا تھا اور اس پر ان کے بھتیجے راج ٹھاکرے نے شیو سینا سے علیحدگی اختیار کر کے اپنا علیحدہ جماعت بنا لی تھی۔

اوباما: وائٹ ہاؤس میں واپسی، معیشت بڑا چیلنج

Written By Unknown on Saturday, November 17, 2012 | 5:22 AM

اوباما اپنے اہل خانے کے ساتھ
اوباما اپنے اہل خانے کے ساتھ واشنگٹن پہنچ گئے ہیں
براک اوباما دوسری مرتبہ امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔
انہیں ملک میں معاشی خسارے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ملک کی معیشت کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے انہیں کانگریس میں رپبلکن پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔
براک اوباما کو رپبلیکن پارٹی کے ساتھ مل کر یہ اہم فیصلہ کرنا ہوگا کہ خسارے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اخراجات میں کمی کی جائے یا ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ منگل کو ہونے والے اتنخابات میں ڈیمکوکریٹک پارٹی فاتح رہی لیکن ایوانِ نمائندگان میں بھی ری پبلکن پارٹی کا غلبہ برقرارہے۔
واضح رہے صدر اوباما کے بدھ کو واشنگٹن واپس آنے سے پہلے کانگریس کے سپیکر جان بونر نے اس بات کے اشارے دیے تھے کہ اگر صدر اوباما ٹیکسز میں اصلاحات کرتے ہیں تو انہیں رپبلکن پارٹی کے ساتھ کوئی درمیانی راستہ نکالنے پر اتفاق کرنا پڑے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات کے تحت جو محصولات میں جو اضافہ ہوگا وہ اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ سابق صدر جارج بش کے دور اقتدار میں ٹیکس میں جو کٹوتی کی گئی تھی اس کی مدت دوہزار بارہ کے اخر میں ختم ہوجائے گی جس کے بعد ملک میں فوجی اور دیگر حکومتی اخراجات میں لازماً کٹوتی کرنی ہوگی۔حکومت اخراجات میں اس کمی سے تب بچ سکتی ہے جب وہ رپبلکن پارٹی سے کوئی معاہدہ کرے۔
انتخابات کے بعد پہلی بار عوام کے سامنے بیان دیتے ہوئے جان بونر نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت کو خسارے سے بچانے کے لیے وہ حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’ صدر صاحب ، یہ آپ کا وقت ہے۔ ہم آپ کی قیادت میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔۔۔ رپبلکن اور ڈیموکریٹس کی حیثیت سے نہیں بلکہ امریکی کی حیثیت سے۔ ہم آپ کی کامیابی کی خواہش رکھتے ہیں۔‘
امریکہ کے نائب صدر جو بائڈن نے واشٹنگٹن جاتے ہوئے جہاز پر سوار صحافیوں کو بتایا کہ ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔
ان کا کہنا تھا ’ہم آگے کام کرنے کے بارے میں سوچ کر فکر مند ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں معیشت سے متعلق جو پالیسیاں ہیں جن میں تبدیلی نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ان کے بارے میں کچھ کرنا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہم صحیح وقت پر صحیح کام کریں گے۔‘
واضح رہے کہ انتخاب میں شکست کے بعد رپبلکن پارٹی کے صدر کے عہدے کے امیدوار مٹ رومنی نے کہا تھا کہ دونوں پارٹیاں ’ لوگوں کو سیاست سے بالاتر رکھ کر‘ملک کے مفاد میں کام کریں گی۔
وہیں صدارتی انتخابات میں جیت کے بعد شکاگو میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ وہ مٹ رومنی کے ساتھ ملک کر کام کریں گے۔
واضح رہے کہ کانگریس آئندہ ہفتے معاشی پالیسیوں میں تبدیلی یا خسارے سے نمٹنے کے بارے میں بات چیت کرے گی۔
صدارتی انتخابات سے پہلے ہونے والے ایگزیٹ پول میں دس میں سے چھ ووٹروں نے ملک کے لیے کمزور معیشت کو سب سے بڑا مسئلہ بتایا تھا لیکن بیشتر نے اس کے لیے جارج بش کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

اصغر خان کیس، فیصلے پر نظرِثانی کی درخواست

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ صدر وفاق کی علامت ہے اور وہ کسی گروہ یا جماعت کی حمایت نہیں کر سکتا
وفاقی حکومت نے اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست دائر کی ہے تاہم سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواست پر کورٹ فیس منسلک نہ ہونے کا اعتراض لگا کر اسے واپس کر دیا ہے۔
سنیچر کو ڈپٹی اٹارنی جنرل کی جانب سے دائر کی جانے والی سولہ صفحات پر مشتمل درخواست میں صدر کے عہدے سے متعلق ریمارکس کے حوالے سے فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کی گئی۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق درخواست میں کہا گیا کہ عدالت کو صدر سے متعلق ایسا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں اور وہ اصغر خان کیس میں صدر سے متعلق آبزرویشن واپس لے۔
درخواست کے مطابق اٹھارویں ترمیم کے بعد صدر کے پاس ایگزیکٹیو اختیارات نہیں رہے اور صدر سے متعلق آبزرویشن میں آئین کے آرٹیکل دو سو سات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اصغر خان کیس انیس سو نوے کے انتخابات میں دھاندلی کے بارے میں تھا اور اس میں صدر کے عہدے کے بارے میں کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا تھا اس لیے عدالت کو اس معاملے پر خیالات ظاہر نہیں کرنے چاہیے تھے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ اصغرخان کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ سنہ انیس سو نوے کے انتخابات میں دھاندلی کے لیے اس وقت کے آرمی چیف اورڈی جی آئی ایس آئی نے سیاستدانوں میں رقوم تقسیم کی تھیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اُس وقت کے صدرسے متعلق کہا تھا کہ غلام اسحاق خان نے ایوانِ صدرمیں جو سیاسی سیل قائم کیا وہ غیر آئینی اورغیر قانونی تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ صدر وفاق کی علامت ہے اور وہ کسی گروہ یا جماعت کی حمایت نہیں کر سکتا۔
اس پر اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ سابق صدر نے اس معاملے میں کیا کردار ادا کیا یہ اُن کے علم میں نہیں ہے تاہم عدالت میں جو ریکارڈ پیش کیا گیا ہے اُس کے مطابق ایوان صدر میں کوئی سیاسی سیل موجود نہیں ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ صدر کو سیاسی کردار ادا کرنے سے متعلق کوئی قدغن نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اُن کے موقف کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر آئی جے آئی کی تشکیل میں سابق صدر غلام اسحاق خان کا اقدام بھی درست تھا۔

’تعلقات میں بہتری کے لیے اچھی نیت ضروری‘

جنرل پرویز مشرف
جنرل پرویز مشرف ہندوستان ٹائمز لیڈرشپ کانفرنس میں حصہ لے رہے ہیں۔
پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کے لیے دونوں ہی طرف سے ’اچھی نیت‘ کی ضرورت ہے۔
ہندوستان ٹائمز ليڈرشپ سربراہ کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے بھارت میں موجود پرویز مشرف نے کہا کہ بھارت اور پاکستان صدیوں ساتھ رہے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی، تاریخی، سماجی، ثقافتی قربت رہی ہے لیکن آج حالات یہ ہیں کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں، باہمی یقین مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور ہم دشمن بن گئے ہیں۔
مشرف نے کہا کہ اکیسویں صدی جيواکانومكس یعنی جغرافیائی معیشت کی ہے۔ ’ہمیں مستقبل کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا راستہ اپنانا ہوگا‘۔ انہوں نے کہا کہ، ’ آگے بڑھنے کے لیے دونوں طرف سے اچھی نیت اور مضبوط ارادے کے ساتھ کئے گیے معاہدوں کی ضرورت ہے‘۔
مشرف نے کہا کہ پاکستان کئی شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں سے پریشان ہے۔ القاعدہ، طالبان، حزب المجاہدین، لشکر طیبہ جیسی شدت پسند تنظیموں سے لڑنے کے معاملے پر دونوں ممالک کو الگ کو الگ نہیں سوچنا چاہیے، یہ ایک مشترکہ لڑائی ہے۔
بھارت کے بارے میں جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستان کی طرح یہاں بھی شدت پسندوں کے درمیان تعلق بڑھ رہا ہے۔ بھارتی نوجوان شدت پسندی کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔ یہ بات نہ بھارت کے لیے ٹھیک ہے اور نہ پاکستان کے لیے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان اگر اپنے تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو پرانے جھگڑے بھلانے ہوں گے۔ جھگڑے کی سب سے بڑی وجہ مسئلہ کشمیر کا معقول حل نکالنا ہوگا اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کنٹرول لائن کو غیر فوجی بنا دیا جائے، زیادہ سے زیادہ خود مختاری دی جائے اور کنٹرول لائن کی اہمیت کو ختم کیا جائے تاکہ لوگوں اور سامان کے نقل وحمل میں آسانی ہو۔.
انہوں نے کہا کہ یہ سب آج بھی ممکن ہے اگر نیت ٹھیک ہو۔
اسامہ بن لادنمشرف نے سياچين، سركريك، بھارت پاکستان کے درمیان پانی کے تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب مسائل صحیح نیت کے بل پر سلجھائے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم ایٹمی صلاحیت والے ملک ضرور ہیں لیکن ہم ٹرگر بٹن پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ تنازعات پر سیاست بند ہونی چاہیے، لوگوں کے درمیان رابطہ بڑھایا جانا چاہیے، ویزا قوانین کو سہل اور لبرل بنایا جانا چاہیے، دونوں ممالک کے درمیان مواصلات اور نقل و حمل کے نظام کو ٹھیک کیا جانا چاہیے اور تجارت کو اصل معنی میں بڑھایا جانا چاہیے۔
اسامہ بن لادن کے پاکستان میں موجود ہونے پر پرویز مشرف سے سوال پوچھے گئے۔
اسامہ بن لادین کے بارے میں ایک صحافی نے یہ سوال کیا کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے میں پاکستان ناکام رہا یا اس نےقصدا ان کو چھپا رکھا تھا؟ اس کے جواب میں پرویز مشرف نے کہا کہ اس معاملے میں پاکستان کے خفیہ نظام سے لاپرواہی ہوئی ہے۔ یہ فوجی غلطی نہیں تھی بلکہ حقیقت یہ تھی کہ ہم پتہ ہی نہیں لگا پائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ القاعدہ نے جب ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کیا تو دنیا کی سب سے مضبوط امریکی خفیہ نظام کو کیوں اس کا پتہ نہیں چل سکا۔ چار طیارے اڑے، امریکی فضائی علاقے میں داخل ہوئے لیکن سی آئی اے اس کا پتہ کیوں نہیں لگا سکی؟ جس طرح گیارہ ستمبر کے حملے میں سی آئی اے سے غلطی ہوئی شاید ویسی ہی غلطی اسامہ بن لادن کے معاملے میں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں سے ہو گئی۔

شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے چل بسے

بال ٹھاکرے کا انتقال حرکتِ قلب بند ہونے سے ہوا
بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر کی سخت گیر قوم پرست ہندو جماعت شیوسینا کے بانی بال ٹھاکرے ممبئی میں انتقال کر گئے ہیں۔
چھیاسی سالہ بال ٹھاکرے گزشتہ کئی دن سے شدید علیل تھے اور وہ اپنی رہائش گاہ ’ماتو شری‘پر ہی زیرِ علاج تھے۔
کلِک بال ٹھاکرے کی یاد میں، تصاویر
ڈاکٹروں کی ایک ٹیم مستقل ان کی صحت کی نگرانی کر رہی تھی اور درمیان میں ان کی حالت میں بہتری کی خبر بھی آئی تھی تاہم سنیچر کی سہ پہر ان کی حالت بگڑی اور وہ چل بسے۔
بال ٹھاکرے کی طبیعت مزید بگڑنے کی خبر کے بعد ان کے بھتیجے راج ٹھاکرے اور دیگر سیاسی رہنما ماتوشري پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔
شیو سینا کے سربراہ کے انتقال کا اعلان ان کے معالج ڈاکٹر جلیل پارکر نے کیا اور ان کا کہنا تھا کہ بال ٹھاکرے کی موت حرکتِ قلب بند ہونے سے ہوئی۔
ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی بال ٹھاکرے کی رہائش گاہ کے باہر دو دن سے موجود شیو سینکوں کی بھیڑ میں اضافہ ہو گیا ہے۔
مہاراشٹر کی حکومت نے حالات سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور ان کی رہائش گاہ کے آس پاس بھاری تعداد میں پولیس کو تعینات کیا گيا ہے۔
1926 میں پیدا ہونے والے بال ٹھاکرے نے کیریئر کا آغاز ایک پیشہ ور کارٹونسٹ کے طور پر کیا لیکن بعد میں وہ سیاست کے میدان میں داخل ہوگئے تھے۔
انہوں نے مراٹھی بولنے والے مقامی لوگوں کو ملازمتوں میں ترجیح دیے جانے کے مطالبے کے ساتھ تحریک شروع کی۔ انیس سو اسّی کی دہائی کے دوران شیوسینا ایک بڑی سیاسی قوت بن گئی تھی۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بال ٹھاکرے نے کبھی نہ تو کوئی انتخاب لڑا اور نہ ہی کوئی سیاسی عہدہ قبول کیا لیکن وہ مہاراشٹر کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔
وہ اپنے پاکستان مخالف جذبات کے لیے بھی جانے جاتے تھے اور حال ہی میں انہوں نے آئندہ ماہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دورۂ بھارت کی شدید مخالفت کی تھی اور ہندوؤں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس دورے کو ناکام بنائیں۔
بال ٹھاکرے نے اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹے اودھو ٹھاکرے کو اپنا جانشین بنا دیا تھا اور اس پر ان کے بھتیجے راج ٹھاکرے نے شیو سینا سے علیحدگی اختیار کر کے اپنا علیحدہ جماعت بنا لی تھی۔

حماس کے وزیرِ اعظم کےدفتر پر فضائی حملہ

اسرائیل کی جانب سے غزہ پر چوتھے روز بھی فضائی حملے جاری رہے اور ہفتے کو غزہ میں حماس کے وزیر اعظم کے دفتر اور کابینہ کی عمارت کو نشانہ بنایا۔
اسرائیل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب سے اسرائیلی فضائیہ نے ایک سو اسّی سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔
اسرائیلی فضائی حملوں میں چار روز میں اڑتیس فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی کارروائی کا چوتھا روز

اسرائیل کی جانب سے غزہ پر چوتھے روز بھی فضائی حملے جاری رہے اور ہفتے کو غزہ میں حماس کے وزیر اعظم کے دفتر اور کابینہ کی عمارت کو نشانہ بنایا۔
اسرائیل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب سے اسرائیلی فضائیہ نے ایک سو اسّی سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق حماس کے ہیڈ کوارٹر کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ یاد رہے کہ مصری وزیر اعظم ہشام قندیل نے جمعہ کو حماس ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا تھا۔
اسرائیلی فضائی حملوں میں چار روز میں اڑتیس فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیل نے ایک بیان میں کہا کہ ان تازہ حملوں میں حماس کے زیرِ زمین اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہےجہاں سے حماس اسرائیل پر راکٹ داغتا تھا۔
اس سے قبل اسرائیل نے پچھہتر ہزار ریزرو فوج کے اراکین کو تیار رہنے کا حکم دیا اور غزہ پر کارروائیوں میں اضافے کا فیصلہ کیا۔
یہ فیصلہ حماس کی جانب سے یروشلم پر راکٹ داغے جانے کے بعد کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’آج غزہ میں سکون نہیں ہو گا۔‘
اس سے پہلے حماس کے عسکریت پسندوں نے راکٹ سے یروشلم کو نشانہ بنایا تاہم وہ راکٹ یروشلم کے قریب گرا۔ واضح رہے کہ اس شہر کو دہائیوں میں پہلی بار نشانہ بنایا گیا ہے۔
حماس کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے راکٹوں سے تین اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو فون کیا اور ایک بار پھر اسرائیل کے ’دفاع کا حق رکھنے‘ کی حمایت کی۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے غزہ میں زمینی کارروائی کی افواہیں گردش کر رہی ہیں لیکن اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیل نے فضائی حملہ کر کے حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ احمد جباری اور ان کے نائب کو ہلاک کر دیا تھا۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق یروشلم کی جانب داغا جانے والا راکٹ جنوبی حصے میں گرا۔ اخبار کے مطابق سنہ انیس سو ستر کے بعد پہلی بار یروشلم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی پولیس حکام کے مطابق جمعرات کو ملک کے سب سے شہر تل ابیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ سنہ انیس سو اکیانوے میں خلیجی جنگ کے دوران اس وقت کے عراقی صدر صدام حسین کی حکومت کی جانب سے اسرائیلی شہر تل ابیب پر داغے جانے میزائلوں کے بعد تل ابیب کو میزائلوں کے خطرے کا سامنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حماس کے عسکریت پسندوں نے ایسے طاقتور میزائلوں کا استعمال پہلی بار کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق بدھ کے بعد سے اب تک اسرائیلی علاقے پر پانچ سو پچاس راکٹ داغے گئے جن میں سے ایک سو چوراسی کو اسرائیل کے میزائل شکن دفاعی نظام نے راستے ہی میں تباہ کر دیا۔
ترجمان کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں چھ سو سے زائد جگہوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے جمعہ کو شام غزہ جانے والے تین راستوں کو بند کر دیا تھا۔
اسرائیل میں افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ غزہ پر زمینی حملہ یقینی ہے تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

Manmohan to discuss political change in Sochi

Written By Unknown on Thursday, November 15, 2012 | 1:09 AM


نئی دہلی،14نومبر( اے یوایس) مےانمار کی جمہورےت حامی لےڈر آنگ سانگ سوچی نے آج ےہاں وزےراعظم منموہن سنگھ کے ساتھ ملاقات کی اور اپنے ملک مےں جاری سےاسی تبدےلی پر تبادلہ خےال کےا۔ منموہن سنگھ اور سوچی کے درمےان بات چےت مےں مےانمار سےاسی اصلاحات کے عمل اور دونوں ملکوں کے درمےان تعلقات کو وسےع کئے جانے کی ضرورت پر توجہ دی گئی۔سر کاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سوچی نے منگل کے روز ہندوستان کےلئے اپنا چھ روزہ دورہ شروع کےا تھا ےہ اےک چوتھائی صدی کے بعد اس ملک کےلئے جہاں انہوں نے تعلےم حاصل کی تھی ان کا پہلا دورہ ہے۔ آج صبح سوےرے نوبل انعام ےافتہ سوچی نے اےک پرائےوےٹ نےوز چےنل سے کہا کہ وہ ہندوستان واپس آکر اچھا محسوس کررہی ہےں۔ ان کا کہنا تھا کہ مےں ہندوستان مےں بہت اچھا محسوس کررہی ہوں مےں بہت خوش ہوں کہ مجھے دہلی کے کئی حصوں نے تسلےم کےا ہے۔ سوچی نے جےسس مےری کانونٹ اسکول مےں تعلےم حاصل کی تھی اور لےڈی شری رام کالج سے پولی ٹےکل سائےکل مےں گرےجوےشن کےا تھا اس وقٹ ان کی والدہ ہندوستان مےں برما کی سفےر تھےں۔ توقع ہے کہ وہ لےڈی شری رام کالج کے اساتذہ اور طلباءس ےملاقات کرےں گی۔ سےاسی سطح پر ان کا کہنا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمےان قرےبی تعلقات کے حق مےں ہےں۔ کےونکہ حالےہ برسوں مےں ان تعلقات مےں خلےج پےدا ہوگئی۔ سوچی اور ان کی ماں جواہر لال نہرو کے دوست تھے ۔1960 مےں 24 اکبر روڈ پر جہاں اب کانگرےس پارٹی کا ہےڈ کوارٹر ہے وہ رہتی تھےں۔ سوچی نائب صدر حامد انصاری، لوک سبھا اسپےکر مےرا کمار، کانگرےس صدر سونےا گاندھی اور وزےر خارجہ سلمان خورشےد سے بھی ملاقات کرنے والی ہےں۔ وہ بنگلواور حےدرآباد کےلئے روانہ ہونے سے پہلے گڑگا ¶اں مےں اےنرجی و وسائل انسٹی ٹےوٹ کا بھی دورہ کرےں گی۔ ہندوستان نے 1962 مےں بےن الاقوامی مفاہمت کےلئے آنگ سانگ سوچی کو جواہر لال نہرو اےوارڈ سے نوازا تھا جبکہ وہ مےانمار مےں فوجی حکومت کے تحت خانہ قےد تھےں۔ انہوں نے وزےراعظم کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران مےانمار مےں جاری قومی مصالحتی عمل سمےت کئی دےگر امور پر بھی تبادلہ خےال کےا۔ وزےراعظم نے ان سے کہا کہ جمہورےت کےلئے آپ کی جد و جہد کے مدنظر ہم آپ کے ساتھ اپنے خوشگوار تعلقات رکھنا چاہتے ہےں۔ وزےراعظم منموہن سنگھ نے دا ¶ سو کی اور صدر تھن سےن کی جانب سے کی گئی پےش رفت کا خےرمقدم کےا دونوں لےڈروں نے عوام سے عوام کے درمےان تعلقات کےلئے بھی اتفاق کےا۔ اور اسی کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمےان عدلےہ اور پارلےمنٹ کی مابےن زےادہ تعاون کے بارے مےں تبادلہ خےال کےا گےا۔ وزےراعظم نے نئی دہلی مےں مےانمار کی لےڈر کا خےرمقدم کرنے کےلئے اپنی مسرت کا اظہار کےا ہے۔ اور جواہر لال نہرو خطبہ دےنے کےلئے دعوت نامہ قبول کرنے پر ان کا شکرےہ ادا کےا۔ انہےں ےو پی اے چےرپرسن سونےا گاندھی نے مدعو کےا تھا۔

Bubbles Tea foremost in the global beverages


ببلز ٹی عالمی مشروبات مےں سب سے آگے  

بہت مےٹھی چائے اور اس مےں مٹر کے دانوں کے برابر تےرتے ہوئے بالز، ببل ٹی، گرچہ جرمنی مےں بہت تےزی سے مقبول ہوئی ہے تاہم ماہرےن اس کے صحت پر منفی اثرات سے خبردار بھی کررہے ہےں۔ جرمن مارکےٹ مےں محض دوسال پہلے متعارف کرائی جانے والی bubble tea اس قدر مقبول ہوئی ہے کہ اس سے دےگر مشروبات کی مانگ مےں واضح کمی واقعی ہوئی ہے۔ جرمن دارالحکومت برلن سے شروع ہونے والا ےہ سلسلہ اب جرمنی کے طو ل و عرض مےں پھےل چکا ہے۔ اکثر ٹےن اےجرز کا من پسند مشروب ببل ٹی بن چکی ہے۔ جرمنی مےں امرےکی فاست فوڈ رےستوراں مےکڈ ونلڈ کے مےک کےفے کی 850 شاخےں کھل چکی ہےں۔ ان سب مےں ببل ٹی گاہکوں کی غےر معمولی دلچسپی کا باعث بنی ہے۔ اس سے ےہ اندازہ بھی ہورہا ہے کہ ےہ مشروب جو صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے حلقوں مےں کافی حدتک متنازعہ ہے۔ عوام مےں کتنی تےزی سے مقبول ہورہاہے۔ ببل ٹی جسے پرل ملک ٹی ےا بو ہا ملک ٹی کے نام سے جانا جاتاہے ، دراصل تائےوان کی پےداوار ہے۔ اسے 80 کے عشرے مےں متعارف کراےا گےاتھا۔ ببل ٹی کی دوبنےادی قسمےں ہےں ۔ اےک مےں پھلوں کا سےرپ ملاےا جاتاہے جبکہ دوسری قسم کی بب ٹی دودھ سے تےارکی جاتی ہے۔ اس مےں Tapioca نامی مادے سے تےار کردہ چھوٹے چھوٹے دانے ڈالے جاتے ہےں ۔ Tapioca دراصل Cassava نامی اےک پودے کی جڑسے حاصل کردہ نشاستے سے تےار کےا جاتاہے۔ ےہ پودا برازےل، کولمبےا، وےنز وےلا، پورٹورےکو، ہےٹی ، ڈومےنےکناور ہنڈوراس مےں پاےا جاتاہے۔ برطانےہ مےں Tapioca سے مراد دودھ سے بنی ہوئی pudding کے اس اےجنٹ سے ہوتی ہے جسے آراروٹ سے تےارکےا جاتاہے۔ تاہم اےشےا مےں اس کے لئے عمومی طورپر تاڑ کے سابودانے کو Tapioca مےں شامل کےا جاتاہے۔ عام طورپر تاڑ مشرق بعےد مےن پاےاجانے والا اےک درخت ہے جس سے سابودانہ حاصل کےا جاتاہے۔ پھلوں کا شربت بھی اکثر بہت زےادہ مےٹھا اور صحت کے لئے نقصان دہ ہوتاہے۔ ببل ٹی کی مقبولےت صحت کے ماہرےن کے لئے تشوےش کا باعث بن رہی ہے۔ اس چائے مےن ڈالے جانے والے Tapioca سے تےار کردہ دانے دار مادے کے بارے مےں خدشہ ظاہر کےاگےا ہے کہ وہ مضر صحت کےمےکلز سے تےار کےا جاتاہے۔ بوبا پرلز، ملک پاو ¿ڈر ، پھلوں کے جوس سے تےار کردہ سےرپ وغےر ہ مےں اےسے نقصان دہ کےمےکلز ملائے جانے کے امکانات قوی ہےں جو انسانی صحت کے لئے نہاےت نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہےں۔ ماہرےن کا کہناہے کہ ےہ ملاوٹ اس مشروب کی تےاری پر اٹھنے والے اخراجات کو کم کرنے کے کئے کی جاتی ہے۔ 2011 مےں تائےوان مےں اےک اسکےنڈل سامنے آےاتھا۔ جس مےں جوس اور دےگر مشروبات مےں DEHP سے ہا رمون کا نظام ناقص ہوجاتاہے۔ 2011 مےں ملائےشےا کی وزارت سحت نے اسٹرابےری جوس ےاسےرپ بنانے والی کمپنےوں کو احکامات جری کئے تھے کہ وہ اس کی فروخت روک دےں کےونکہ اس مےں Carcinogen ےاسرطان زرات شامل ہونے کے شواہد طبی تجربات کے نتےجے مےں سامنے آئے تھے۔ اسٹرابےری جو س ےا سےرپ ببل ٹی مےں بھی استعمال کےا جاتاہے۔

AMIN INSPIRATION

Written By Mukarram Haidari on Monday, November 12, 2012 | 9:53 PM

AMIN INSPIRATION

Pages

,

Most Popular Video !

Want a Google Adsense Account?